World
ایف بی آئی ہیک: حساس ڈیٹا چوری ہونے پر امریکی ایجنٹس برہم اور خوفزدہ
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے موجودہ اور سابقہ ایجنٹس نے ایف بی آئی کے ہیک کے تباہ کن اثرات کا انکشاف کیا ہے۔ اس خطرناک ڈیٹا سیکیورٹی بریچ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والے ایف بی آئی کے ایک بڑے ہیک نے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر ہلچل مچا دی ہے۔ اس خطرناک ڈیٹا کی خلاف ورزی کے بعد ادارے کے اندر موجودہ اور سابقہ ایجنٹس میں شدید خوف اور غصہ پایا جا رہا ہے۔ اس سنگین واقعے نے ملک کی سب سے بڑی انٹیلی جنس اور تفتیشی ایجنسی کی سیکیورٹی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جس سے اندرونی حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویوز میں کئی موجودہ اور سابقہ ایجنٹس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس ڈیٹا بریچ کے اثرات انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حساس سیکیورٹی فالٹس نہ صرف ادارے کی خفیہ کارروائیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ ان میں کام کرنے والے افراد کی ذاتی حفاظت بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ ایجنٹس میں اس بات پر بھی شدید غم و غصہ ہے کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے بروقت اور مؤثر حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔
سایبر سیکیورٹی کے ماہرین کے مطابق، یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کے جدید ترین ادارے بھی اب اس طرح کے پیچیدہ اور منظم حملوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔ اس سیکیورٹی بریچ کے نتیجے میں ممکنہ طور پر اہم تفتیشی ریکارڈز اور حساس نوعیت کی معلومات خطرے میں پڑی ہیں، جس سے قومی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے اب سخت اور جامع پالیسیاں بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
دوسری جانب، ایف بی آئی کی قیادت کی طرف سے اس واقعے کے بعد اندرونی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ سیکیورٹی کی خرابی کس طرح واقع ہوئی۔ تاہم، ایجنٹس میں پایا جانے والا یہ غصہ اور عدم اعتماد اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ادارے کو اپنے داخلی نظام اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو دوبارہ سے جانچنے اور بہتر بنانے میں طویل وقت درکار ہوگا۔