Health
بچوں کی یونیورسٹی روانگی اور والدین کے لیے جذباتی ایڈجسٹمنٹ
بچوں کے یونیورسٹی جانے کے بعد والدین کو ایک جذباتی اور مشکل مرحلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس نئے مرحلے میں خود کو سنبھالنے اور مثبت انداز میں آگے بڑھنے کے لیے کچھ عملی اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
جب بچے اپنی اسکول اور کالج کی زندگی مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی میں داخلے کے لیے گھر سے دور جاتے ہیں، تو یہ والدین کے لیے ایک انتہائی جذباتی اور مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ اس نئی کیفیت کو ماہرین نے ایک ظالمانہ تبدیلی یا برٹل ایڈجسٹمنٹ سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ برسوں تک بچوں کی دیکھ بھال اور ان کے گرد گھومنے والی زندگی اچانک ایک بالکل مختلف رخ اختیار کر لیتی ہے۔ گھر میں پڑنے والا سناٹا اور بچوں کی روزمرہ کی موجودگی کا احساس نہ ہونا والدین کے دل پر بھاری گزرتا ہے، جس سے بعض اوقات شدید تنہائی اور اداسی کا احساس جنم لیتا ہے۔
اس نئے مرحلے کو سنبھالنے کا سب سے پہلا اور اہم قدم اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ بچے اب جوان ہو چکے ہیں اور وہ اپنی عملی زندگی کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق والدین کو اس تبدیلی کو منفی انداز میں لینے کے بجائے ایک مثبت موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ وہ وقت ہے جب والدین اپنی ذاتی زندگی، پرانے مشاغل اور ازدواجی رشتے کو دوبارہ وقت دے سکتے ہیں۔ بچوں کے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تعلق کمزور ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ والدین نے اپنے بچوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بنا دیا ہے۔
اس کٹھن دور سے نبرد آزما ہونے کے لیے ضروری ہے کہ والدین اور بچوں کے درمیان رابطے کا ایک نیا اور متوازن نظام قائم کیا جائے۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے اب رابطے میں رہنا بہت آسان ہو گیا ہے، تاہم اس بات کا خیال رکھنا بھی لازمی ہے کہ بچوں کو ان کی نئی نجی اور اکیڈمک زندگی میں مکمل آزادی دی جائے۔ مسلسل فون کالز یا پیغامات کے ذریعے ان کی روزمرہ زندگی میں حد سے زیادہ مداخلت کرنے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ وہ خود اعتمادی کے ساتھ اپنی مشکلات کا سامنا خود کر سکیں۔
آخر میں، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت پر خصوصی توجہ دیں۔ جب گھر میں وقت زیادہ ہو تو اسے ایسی سرگرمیوں میں صرف کریں جو آپ کو خوشی دیتی ہوں، جیسے کہ نئی زبان سیکھنا، ورزش کرنا، یا کسی فلاحی کام کا حصہ بننا۔ دوستوں اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ میل جول بڑھائیں تاکہ تنہائی کا احساس کم سے کم ہو۔ یاد رکھیے کہ یہ وقت والدین کے لیے خود کو دوبارہ دریافت کرنے اور ایک نئے باب کا آغاز کرنے کا بہترین موقع ہے۔