LIVE
Loading Breaking News...

قدرتی اور بغیر پالش ناخنوں کا فیشن اور طبقاتی بحث

News Image
آج کل فیشن کی دنیا میں بغیر پالش یا قدرتی نظر آنے والے ناخنوں کا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بظاہر یہ سادہ سا فیشن اب سماجی اور طبقاتی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔
فیشن کی دنیا میں آئے روز نئے رجحانات جنم لیتے ہیں جن کا مقصد ظاہری خوبصورتی کو بڑھانا ہوتا ہے۔ حال ہی میں ناخنوں کی آرائش کے حوالے سے ایک ایسا ٹرینڈ سامنے آیا ہے جس میں کسی بھی قسم کی نیل پالش یا آرٹیفیشل مینیکیور کے بجائے بالکل سادہ اور قدرتی ناخن رکھنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ بظاہر یہ ایک معصوم اور سستا فیشن دکھائی دیتا ہے جس میں اضافی اخراجات کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن ماہرین نے اس کے پیچھے چھپے سماجی اور معاشی محرکات پر روشنی ڈالی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بظاہر سادہ انداز اب معاشرے میں ایک طبقاتی علامت بنتا جا رہا ہے۔ ماضی میں مہنگے نیل آرٹس، جیل پالش اور ایکریلک ناخنوں کو امارت اور وقت کی فراوانی کی علامت سمجھا جاتا تھا، کیونکہ مزدور طبقے یا روزمرہ کی سخت محنت کرنے والی خواتین کے لیے ایسے مصنوعی ناخن رکھنا عملی طور پر ناممکن ہوتا تھا۔ اب جب کہ اعلیٰ طبقے اور نمایاں شخصیات نے قدرتی اور بغیر پالش کے ناخنوں کو اپنانا شروع کیا ہے، تو یہ ایک نیا اشرافیہ بیان بن گیا ہے۔ اس نئے رجحان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قدرتی ناخنوں کی اس نمائش کے لیے بھی خاصی دیکھ بھال، مہنگے سپا ٹریٹمنٹس اور صحت مند غذا کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر عام شخص کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس طرح جو ٹرینڈ عام آدمی کے لیے سادگی کی علامت ہونا چاہیے تھا، وہ دراصل اشرافیہ کی ایک اور نئی روش میں تبدیل ہو چکا ہے جو خاموشی سے اپنے اندر طبقاتی برتری کے جذبات رکھتی ہے۔ مستقبل میں فیشن کے یہ مباحث مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ صارفین اب ظاهری نمود و نمائش کے بجائے اس کے پس منظر میں موجود سماجی اثرات کو بھی جانچ رہے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ فیشن کو ذاتی پسند تک محدود رکھنا چاہیے نہ کہ اسے کسی کی سماجی حیثیت یا معاشی برتری کا پیمانہ بنایا جائے۔