LIVE
Loading Breaking News...

فیس بک اور ٹک ٹاک کو قانونی محاذ پر بڑے چیلنجز کا سامنا

News Image
نیو میکسیکو کی عدالت نے فیس بک کو گمراہ کن اور دھوکہ دہی پر مبنی اقدامات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ٹک ٹاک نے الباما کے ساتھ حفاظتی دعووں سے متعلق مقدمے میں 100 ملین ڈالر کا تصفیہ کر لیا ہے۔
عالمی سطح پر معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قانونی محاذ پر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی ریاست نیو میکسیکو میں ہونے والی قانونی کارروائی کے دوران فیس بک کو صارفین کے حوالے سے دھوکہ دہی پر مبنی اقدامات کا مرتکب پایا گیا ہے اور اسے قانونی طور پر ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ کمپنی کی جانب سے اختیار کی جانے والی پالیسیوں اور صارفین کے حقوق کے تحفظ میں مبینہ کوتاہیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس سے ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ہلچل مچ گئی ہے۔ دوسری جانب ویڈیو شیئرنگ کی مقبول ترین ایپ ٹک ٹاک نے بھی امریکی ریاست الباما کے ساتھ ایک بڑے قانونی تنازع کا خوش اسلوبی سے حل نکال لیا ہے۔ ٹک ٹاک نے حفاظتی دعووں اور کم عمر صارفین کے تحفظ سے جڑے مقدمات کے تنازع کو ختم کرنے کے لیے 100 ملین ڈالر کا بھاری بھرکم مالیاتی تصفیہ کرنے پر آمرضی ظاہر کی ہے۔ اس تصفیے کے تحت کمپنی کو ریاست کی جانب سے عائد کردہ بعض الزامات اور خدشات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد فریقین کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق، ان حالیہ عدالتی فیصلوں اور تصفیات نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے احتساب کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔ ماضی میں یہ کمپنیاں اپنی پالیسیوں کے تحت صارفین کے ڈیٹا اور آن لائن سیفٹی کے معاملات میں کافی حد تک آزاد سمجھی جاتی تھیں، تاہم اب مختلف ریاستوں کے اٹارنی جنرلز اور عدالتیں ان کے خلاف سخت موقف اختیار کر رہی ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر اب حکومتی اور قانونی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے ان فیصلوں کے اثرات پوری سوشل میڈیا انڈسٹری پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیس بک اور ٹک ٹاک جیسے بڑے نیٹ ورکس کو اب اپنی حفاظتی پالیسیوں، الگورتھم اور اشتہاری دعووں میں انتہائی احتیاط برتنی ہوگی۔ صارفین کی سلامتی اور رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں نہ صرف مالی نقصانات کا خطرہ بڑھ گیا ہے بلکہ ان کمپنیوں کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔