World
آبنائے ہرمز کی بندش: تہران کا امریکہ کو سات روزہ حل پیش
ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر دوبارہ کھولنے کے لیے تجویز کردہ منصوبے کی منظوری کا اختیار اب امریکہ کے پاس ہے۔ یہ اہم پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
تہران نے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بحال کرنے کے حوالے سے ایک نیا سفارتی قدم اٹھایا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے امریکہ کو ایک جامع تجاویز کا پیکر پیش کیا گیا ہے جس کے تحت اس اہم آبی گزرگاہ کو محض سات دنوں کے اندر مکمل طور پر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں دنیا بھر کے ممالک اس تنازع کے پرامن حل کے منتظر ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اب اس معاملے میں حتمی فیصلے کا اختیار امریکہ کے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کی جانب سے پیش کردہ یہ سات روزہ منصوبہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور تجارتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر واشنگٹن اس تجویز کو سنجیدگی سے قبول کرتا ہے تو اس سے نہ صرف بحری جہاز رانی بحال ہوگی بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے بھی شدید خدشات دور ہو سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس راستے کی بندش یا رکاوٹ دنیا بھر میں مہنگائی اور توانائی کے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی برادری فریقین پر زور دے رہی ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں۔ اب تمام نظریں امریکی ردعمل پر مرکوز ہیں کہ آیا واشنگٹن اس پیشکش کو قبول کرتا ہے یا نہیں، کیونکہ اس فیصلے پر خطے کا مستقبل اور عالمی معیشت کا استحکام کا کافی حد تک انحصار ہے۔