World
ایران اور امریکہ: جنگ کے خاتمے کے لیے سات روزہ روڈ میپ پر غور
تہران کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن اتفاق کرے تو اس منصوبے کے تحت ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اور جوہری مذاکرات بحال ہو جائیں گے۔ ایران نے اس اہم سفارتی پیش رفت کے بعد امریکہ کے باضابطہ جواب کا انتظار شروع کر دیا ہے۔
تہران نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ جنگ کے فوری خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پیش کیے گئے ایک ہفتے کے مجوزہ روڈ میپ پر امریکہ کے باضابطہ جواب کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔ اس سفارتی پیش رفت کا مقصد کئی محاذوں پر جاری کشیدگی کو ختم کرنا اور فوری طور پر امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ایرانی حکام کے مطابق اس جامع منصوبے کے تحت اگر واشنگٹن اس تجویز سے اتفاق کرتا ہے تو اہم ترین آبی گزرگاہ یعنی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جس سے بین الاقوامی تجارت اور تیل کی سپلائی لائنز بحال ہونے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ، اس روڈ میپ کا ایک اور اہم نکتہ ایک ہفتے کے اندر متنازعہ جوہری مذاکرات کی میز پر واپسی بھی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے معطل ہیں۔بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین نے اس پیش رفت کو ایک انتہائی اہم قدم قرار دیا ہے کیونکہ اس سے دنیا بھر میں توانائی کے بحران اور جنگی صورتحال کے خوف میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ تاہم، واشنگٹن کی طرف سے تاحال اس مجوزہ سات روزہ روڈ میپ پر کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، اور مبصرین کی نظریں امریکہ کے اگلے قدم پر لگی ہوئی ہیں۔آئندہ چند روز میں اس بات کا فیصلہ متوقع ہے کہ آیا دونوں فریقین اس سفارتی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں جاری کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ تہران کا یہ موقف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، بشرطیکہ امریکی انتظامیہ بھی اس میں سنجیدہ دلچسپی کا مظاہرہ کرے۔