World
پوپ لیو چہارم کا دورہ فرانس اور مصنوعی ذہانت پر وارننگ
پوپ لیو چہارم نے پیرس کے دورے کے دوران خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کو کمزور کر سکتی ہے۔ انہوں نے ایلیسی پیلس میں مشینوں کی جنت کے تصور کے خلاف سخت تنبیہ جاری کی۔
پوپ لیو چہارم نے اپنے حالیہ دورہ فرانس کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) کے انسانیت پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پیرس میں ہزاروں افراد کا اجتماع اس تاریخی موقع پر موجود تھا جہاں پوپ نے اہم خطاب کیا۔ انہوں نے ایلیسی پیلس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کی اندھی دوڑ انسانی معاشرے کو کسی ایسی سمت لے جا سکتی ہے جہاں انسانیت کے بنیادی اقدار خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
اپنے خطاب میں پوپ نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو مشینوں کی اس مبینہ جنت سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو انسانی رشتوں اور اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی اپنی جگہ اہم ہے لیکن اسے انسانیت کی قیمت پر فروغ نہیں دینا چاہیے۔ اس موقع پر فرانسیسی دارالحکومت میں عوام کی کثیر تعداد موجود تھی جنہوں نے پوپ کے ان خیالات کو توجہ سے سنا اور اس بات پر غور کیا کہ کس طرح ڈیجیٹل دور میں انسانی بقا کو یقینی بنایا جائے۔
مبصرین کے مطابق پوپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کے اخلاقی ضابطوں پر بحث جاری ہے۔ اس دورے اور وارننگ نے عالمی سطح پر ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا مستقبل میں ٹیکنالوجی انسانی اقدار پر حاوی ہو جائے گی یا انسان اس پر قابو پانے میں کامیاب رہے گا۔ پوپ کے اس پیغام کو دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے اور مختلف حلقوں کی طرف سے اس پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔