LIVE
Loading Breaking News...

راولپنڈی نالہ لئی سیلاب اور مکینوں کی زندگی کی کہانی

News Image
راولپنڈی کے نالہ لئی کے اطراف میں رہنے والے مکین ہر سال مون سون کی بارشوں اور سیلابی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے تیار رہتے ہیں۔ یہاں کی خواتین مشکل ترین حالات میں بھی اپنے گھروں اور خاندانوں کو بچانے کے لیے منفرد جبلت اور حکمت عملی اپناتی ہیں۔
راولپنڈی میں نالہ لئی کے کنارے آباد مکینوں کے لیے ہر سال مون سون کی آمد اپنے ساتھ تشویش اور خطرے کی ایک نئی لہر لے کر آتی ہے۔ گوالمنڈی اور آریہ محلہ جیسے گنجان آباد علاقوں میں رہنے والے لوگ اس نالے کے مزاج اور اس کے بپھرنے کے انداز سے بخوبی واقف ہیں۔ جب یکم ستمبر کی صبح گوالمنڈی میں بارش کے دوران نالہ لئی کا پانی بیس فٹ سے اوپر اٹھا اور اس کے کنارے ٹوٹ کر پانی گھروں میں داخل ہونے لگا، تو مکینوں کے لیے یہ کوئی نیا منظر نہیں تھا۔ یہاں کی خواتین برسوں سے اس صورتحال کا سامنا کرتی چلی آہی ہیں اور انہوں نے اس آفت کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ نالہ لئی اسلام آباد سے شروع ہو کر راولپنڈی کے اہم اور گنجان علاقوں سے گزرتا ہوا دریائے سوآن میں گرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ماضی میں اس نالے میں کئی بڑے سیلاب آ چکے ہیں جن سے لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں۔ سنہ 2001 کا سیلاب اس خطے کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ تھا جب جڑواں شہروں میں ریکارڈ بارش کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ تاہم اعداد و شمار اور رپورٹس اس حقیقت کو بیان کرنے سے قاصر ہیں کہ نالہ لئی کے کنارے آباد ان خواتین نے دہائیوں سے کیسی زندگی گزاری ہے۔ یہ صرف سیلاب سے بچنے کی جنگ نہیں بلکہ اس قدرتی آفت کے ساتھ اپنی روزمرہ کی زندگی کو جوڑنے کی ایک طویل داستان ہے۔ بارشوں کا سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی یہاں کی خواتین اپنی تیاریاں شروع کر دیتی ہیں۔ سرکاری انتباہ کا انتظار کیے بغیر، مکین اپنے طور پر حفاظتی اقدامات کرتے ہیں۔ فریج اور بھاری سامان کو اینٹوں پر اٹھا کر اونچا کیا جاتا ہے، نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے خود ہی کوشاں رہتی ہیں اور دروازوں پر ریت کی بوریاں اور لکڑی کے تختے لگائے جاتے ہیں۔ بارش کی شدت بڑھنے پر خواتین خود اپنے ہاتھوں سے وائپر اور اوزار لے کر پانی کا راستہ صاف کرتی ہیں۔ سیلاب کے دنوں میں پانی کے ساتھ آنے والے زہریلے کیڑے مکوڑے اور سانپ بھی خطرہ بن جاتے ہیں، لیکن یہاں کے مکینوں کا ماننا ہے کہ جب پانی نے آنا ہے تو وہ اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔ اس تمام تر تباہی اور مشکلات کے باوجود، یہاں کی خواتین نے ہمت نہیں ہاری۔ شازیہ، رخسانہ، امبرین اور نصرت جیسی تمام مکین خواتین اس نالے کو اپنی تاریخ کا حصہ مانتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ نالہ ہمارے بزرگوں کے زمانے سے یہاں موجود ہے اور اب تو یہ ہمارے گھروں کے پتے تک یاد رکھ چکا ہے۔ ہر سال پانی ہمارے دروازے پر دستک دیتا ہے، مگر ہم نے اس کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوالمنڈی اور آریہ محلہ کی ان خواتین کو اب فخر سے 'نالہ لئی کی عورتیں' کہا جاتا ہے، جو ہر سال اس پانی کے طوفان سے لڑنے کے لیے پہلے سے تیار رہتی ہیں۔