LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ، مطالبات اور حکومتی تیاریاں

News Image
تحریک انصاف کے رہنما نعیم حیدر پنجوتھہ نے مخصوص مطالبات کی منظوری کی صورت میں مارچ ملتوی کرنے کا اشارہ دیا ہے، جبکہ ترجمان شیخ وقاس اکرم نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ دوسری جانب حکومت نے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز تعینات کر دی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اسلام آباد کی طرف نکالے جانے والے ممکنہ احتجاجی مارچ کے حوالے سے پارٹی صفوں میں تاحال ابہام پایا جاتا ہے۔ پارٹی کے ایک رہنما کی جانب سے مارچ کے التوا کا اشارہ دیے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں، تاہم پارٹی ترجمان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نوعیت کی کوئی باضابطہ تجویز اس وقت پارٹی فورم پر زیر غور ہے۔ سیاسی صورتحال انتہائی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے اور دونوں جانب سے تیاریاں عروج پر ہیں۔ وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، اگلے چھ سے آٹھ ماہ کے اندر شفاف انتخابات کے انعقاد اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کے مطالبات تسلیم کر لے تو مارچ کو ملتوی کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس ضمانت ملنے کی صورت میں ہی حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے، ورنہ پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ اس تحریک میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے برعکس، پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاس اکرم نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی کوئی بھی تجویز پارٹی کے اندر زیر بحث نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف اور صرف پارٹی کے بانی عمران خان ہی مارچ کو ملتوی کرنے کا حتمی اختیار رکھتے ہیں، اور اس وقت تک احتجاج طے شدہ پروگرام کے مطابق ہی آگے بڑھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک رہنماؤں کو ریلیف اور عمران خان سے ملاقات کا موقع نہیں ملتا، اس احتجاج سے پچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے ممکنہ احتجاج اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں 20 ستمبر سے 5 اکتوبر تک رینجرز کے دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اینٹی دہشت گردی ایکٹ اور رینجرز آرڈیننس کے تحت یہ تعیناتی کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل اختیارات حاصل ہوں۔