LIVE
Loading Breaking News...

مکہ معاہدہ اور عسکری سربراہان کا دفاعی تعاون پر اہم اجلاس

News Image
مکہ میں ہونے والے اہم دفاعی اجلاس کے دوران عسکری سربراہان نے باہمی سکیورٹی معاہدوں اور وعدوں پر فوری عمل درآمد کرنے کا پختہ عزم ظاہر کیا ہے۔ اس ملاقات میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مکہ مکرمہ میں ایک انتہائی اہم دفاعی اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف ممالک کے عسکری سربراہان نے شرکت کی۔ اس ملاقات کے دوران باہمی دفاعی معاہدوں اور ماضی میں طے پانے والے وعدوں پر فوری اور مؤثر عمل درآمد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ شرکاء کا ماننا تھا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام برادر ممالک کو اپنے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال کا مقابلہ مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ کیا جا سکے۔ اجلاس کے دوران دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور مشترکہ عسکری مشقوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر بھی اتفاق رائے پیدا ہوا۔ عسکری قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام سکیورٹی وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا سکے۔ اس موقع پر مختلف سکیورٹی امور سے متعلق روڈ میپ کی بھی منظوری دی گئی جس کا بنیادی مقصد عسکری تعاون کو اگلے درجے تک لے جانا ہے۔ ترکی اور پاکستان سمیت دیگر اہمم ممالک کے عسکری حکام کی اس بیٹھک کو خطے کی سیاست اور سلامتی کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے معاہدے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرتے ہیں بلکہ اجتماعی سلامتی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر تمام فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے باقاعدہ فالو اپ میکانزم کو فعال رکھیں گے تاکہ تمام دفاعی فیصلوں پر بروقت عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔