Pakistan
وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں اہم خطاب، عالمی گزرگاہوں پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہم سمندری گزرگاہیں تنازعات کا شکار نہیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے مقدس مقامات پر حملوں کی شدید مذمت بھی کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عالمی معیشت کی بنیادی شریانیں سمجھی جانے والی اہم آبی گزرگاہیں کسی بھی تنازع کی نذر نہیں ہونی چاہئیں۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ اس اہم عالمی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے راستوں کو مکمل طور پر محفوظ اور کھلا رکھا جانا ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اسٹریٹجک مقامات کو جنگی اور سیاسی کشیدگی کا چوک پوائنٹ بننے سے بچانا عالمی برداری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن و امان کی صورتحال پر روشنی ڈالی اور خلیجی خطے کی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کو دوٹوک انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے خلیج کے ممالک خصوصاً سعودی عرب کی سالمیت اور خودمختاری کے ساتھ پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے سعودی عرب کے مقدس مقامات پر ہونے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ حرمین شریفین کے تقدس کو پامال کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مسلم امہ کو اس وقت درپیش چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے باہمی اتحاد اور ییکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ سیاسی اور معاشی مبصرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا یہ خطاب عالمی سطح پر پاکستان کے اس کردار کو اجاگر کرتا ہے جو خطے میں استحکام، امن اور اقتصادی سلامتی کے فروغ کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا ہے۔ عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں اہم سمندری گزرگاہوں کی آزادی اور سعودی عرب کے مقدس مقامات کے تحفظ کا یہ پیغام بین الاقوامی سفارت کاری میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی امن کے قیام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی حمایت کی ہے اور نیویارک کے اس فورم پر وزیراعظم کا بیان اسی تسلسل کا ایک روشن باب ہے۔