LIVE
Loading Breaking News...

ریاض میں مکہ دفاعی معاہدے کے سربراہان کا اہم اجلاس

News Image
ریاض میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے عسکری سربراہان نے مکہ دفاعی معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس دفاعی اتحاد کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی حمایت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ عسکری سربراہان کے درمیان ایک انتہائی اہم اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کا بنیادی مقصد 'مکہ دفاعی معاہدے' کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنانا اور اس کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔ اجلاس میں شریک تینوں ممالک کے عسکری حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران پاکستان اور ترکی کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات میں مزید گرم جوشی دیکھی گئی ہے اور دونوںممالک نے سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی خطرات خصوصاً حوثی باغیوں کے خلاف جاری کشمکش میں ریاض کی بھرپور مدد کرنے کے طریقوں پر غور کیا۔ اس دفاعی معاہدے کے تحت توقع کی جا رہی ہے کہ خطے میں استحکام لانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ بیرونی یا اندرونی خطرے کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مثلثی اتحاد کے اثرات پورے خطے پر مثبت انداز میں مرتب ہوں گے اور یہ مستقبل میں دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی وسعت اختیار کر سکتا ہے۔ ترکی کے ایک اعلیٰ اسپیکر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف سعودی عرب، پاکستان اور ترکی تک محدود رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار وسیع تر مسلم دنیا تک بھی پھیل سکتا ہے۔ ریاض میں ہونے والے اس اہم اجلاس کو بین الاقوامی سطح پر بڑی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ خطے میں طاقت کے توازن اور امن کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر تمام فریقین نے باہمی مشاورت کے عمل کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے اور طے شدہ فیصلوں پر فوری عمل درآمد کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔