LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کا خطاب اور عالمی ردعمل

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران واک آؤٹ اور شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔ سابق امریکی سفیر سمیت عالمی رہنماؤں نے اس خطاب پر اپنے مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خطاب نے عالمی سطح پر ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا۔ ان کے خطاب کے آغاز کے ساتھ ہی ہال میں موجود کئی وفود نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا جبکہ باہر بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ اس صورتحال پر سابق امریکی سفیر برائے اسرائیل اور دیگر بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے بھی گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں اپنے ناقدین کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور خطے میں اسرائیل کو درپیش سکیورٹی خطرات پر کھل کر بات کی۔ دوسری جانب، بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، نیتن یاہو کے اس جارحانہ مؤقف کو اگرچہ ان کے ملک کے اندر قدامت پسند حلقوں اور حامیوں کی طرف سے سراہا گیا ہے، تاہم عالمی اسٹیج پر اسے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تقریر سے غزہ کی جنگ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو مزید دھچکا لگا ہے۔ ایران اور دیگر علاقائی امور پر ان کے سخت بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ دنیا بھر کے میڈیا آؤٹ لیٹس نے اس دن کو اقوام متحدہ کی تاریخ کے انتہائی ہنگامہ خیز دنوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ امریکی اور دیگر مغربی میڈیا نے بھی اس بات پر زور دیا کہ کس طرح مندوبین نے اسرائیلی وزیر اعظم کی تقریر کے دوران ہال چھوڑ کر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ غزہ جنگ اور خطے کی موجودہ صورتحال پر عالمی برادری شدید تقسیم کا شکار ہے اور سفارتی سطح پر حل تلاش کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔