LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بیان: امریکہ سے جنگ نہیں معاہدہ چاہتے ہیں

News Image
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ تصادم یا جنگ نہیں بلکہ ایک منصفانہ معاہدہ چاہتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ایران کی جانب سے سابق امریکی صدر کو نشانہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ جنگ یا تصادم نہیں چاہتا بلکہ تہران کی اولین ترجیح ایک منصفانہ اور متوازن معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے مسائل کو سفارتی راستوں اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر نے ان اطلاعات یا الزامات کو بھی یکسر مسترد کر دیا جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران سابق امریکی صدر یا موجودہ سیاسی شخصیات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے بے بنیاد الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ایران اس قسم کی کسی بھی غیر قانونی کارروائی میں محوث نہیں ہے۔ صدر پزشکیان نے زور دیا کہ تہران ہمیشہ سے خطے میں امن و امان اور استحکام کا حامی رہا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، صدر پزشکیان کا یہ بیان واشنگٹن اور تہران کے تعلقات میں نئی سفارتی گنجائش تلاش کرنے کی ایک کوشش ہو سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال انتہائی حساس اور تشویشناک ہے، ایرانی قیادت کی جانب سے اس قسم کے مصالحانہ بیانات کو عالمی سطح پر توجہ کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اگرچہ بااعتماد فضا کی بحالی میں وقت لگے گا، تاہم بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا مثبت پیش رفت ہے۔