Politics
وائٹ ہاؤس کی جانب سے سی این این پر صدارتی طیارے کی پابندی
وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹینیسی کے دورے کے موقع پر معروف خبر رساں ادارے سی این این کے عملے کو صدارتی طیارے میں سفر کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام میڈیا اور انتظامیہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس نے ایک اہم فیصلے کے تحت معروف خبر رساں ادارے سی این این (CNN) کے عملے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹینیسی کے دورے کے موقع پر صدارتی طیارے 'ایئر فورس ون' میں سفر کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سی این این کا عملہ طے شدہ شیڈول کے مطابق صدر کے ساتھ سفر کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ انتظامیہ کے اس قدم کو ذرائع ابلاغ اور موجودہ حکومت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔صدارتی طیارے میں میڈیا کی رسائی روایتی طور پر امریکی صحافت اور وائٹ ہاؤس کی کوریج کا ایک اہم حصہ رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں انتظامیہ اور بعض میڈیا اداروں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس پابندی کے نتیجے میں صحافتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس اقدام کو آزادی صحافت اور خبروں کی بروقت فراہمی پر ایک قدغن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے انتظامیہ اور میڈیا کے مابین خلیج کو مزید وسیع کر سکتے ہیں جس کے اثرات طویل المدتی بنیادوں پر سیاسی منظرنامے پر مرتب ہوں گے۔اس تمام صورتحال کے باوجود وائٹ ہاؤس یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس پابندی کی وجوہات کے حوالے سے تاحال کوئی تفصیلی یا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب، سی این این کے ترجمان نے بھی اس فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ میڈیا کی رسائی کو محدود کرنا جمہوری روایات کے منافی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اس واقعے کو آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان مزید تناؤ کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ عوام اور مبصرین کی نظریں اس تنازع کے اگلے موڑ پر مرکوز ہیں۔