LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں تباہ حال عمارتیں پناہ گاہیں بن گئیں، شہریوں کی زندگی خطرے میں

News Image
مسلسل تنازعات اور بمباری کے نتیجے میں غزہ کے بے گھر خاندان شدید تباہ حال عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ان عمارتوں کے کسی بھی وقت گرنے کا شدید خطرہ ہے لیکن شہریوں کے پاس کوئی متبادل پناہ گاہ موجود نہیں ہے۔
مسلسل جاری تنازعات اور تباہ کن بمباری نے غزہ کے رہائشیوں کو انتہائی کسمپرسی کی حالت میں دھکیل دیا ہے۔ صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ بے شمار خاندان شدید نقصان اٹھانے والی اور بوسیدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ان عمارتوں کا ڈھانچہ اندر سے مکمل طور پر کمزور ہو چکا ہے اور وہ کسی بھی وقت زمین بوس ہونے کا خطرہ رکھتی ہیں، اس کے باوجود مکین وہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق غزہ میں اب کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں بچی ہے اور نقل مکانی کرنے والے افراد کے پاس سر چھپانے کے لیے متبادل ذرائع کا فقدان ہے۔ تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور مسلسل بحران کی وجہ سے لوگ خیموں یا عارضی کیمپوں کے بجائے ان خطرناک عمارتوں کے ملبے میں ہی رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس جانے کے لیے اور کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر موسم مزید خراب ہوا یا معمولی سا بھی زلزلہ یا دھماکہ ہوا تو یہ بوسیدہ عمارتیں ایک بڑے انسانی المیے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ہزاروں معصوم جانیں اس وقت براہ راست خطرے کی زد میں ہیں، جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور فلاحی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ کے ان بے سروسامان مکینوں کے لیے فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں، خیموں اور بنیادی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ اس جاری انسانی بحران میں مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔