World
امریکہ میں اسرائیل مخالف رجحان کی وجہ بائبل کا علم نہ ہونا ہے: مائیک ہکابی
امریکہ میں اسرائیل کے لیے حمایت میں کمی کی بنیادی وجہ لوگوں کی بائبل سے ناواقفیت ہے۔ پیو ریسرچ کے اپریل کے ایک سروے کے مطابق امریکی بالغ آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ اسرائیل کے بارے میں منفی نظریہ رکھتا ہے۔
امریکہ میں اسرائیل کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت میں کمی اور عوامی رجحانات کے حوالے سے اہم بیانات سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں ہونے والے ایک مباحثے اور تجزیے کے دوران اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکی معاشرے میں اسرائیل کے تئیں منفی آراء کا فروغ بنیادی طور پر تاریخی اور مذہبی حوالوں سے لاعمری کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں مبصرین کا ماننا ہے کہ نوجوان نسل اور مجموعی طور پر امریکی عوام میں بائبل کی تعلیمات سے دوری اس رویے کو ہوا دے رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اس صورتحال نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی گہری تشویش پیدا کر دی ہے جہاں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ روایتی اتحاد اور نظریات میں تبدیلی آ رہی ہے۔
حالیہ عوامی رجحانات کی تائید پیو ریسرچ کے ایک حالیہ سروے سے بھی ہوتی ہے جو اپریل کے مہینے میں جاری کیا گیا تھا۔ اس تفصیلی سروے کے نتائج سے انکشاف ہوا کہ امریکہ کی کل بالغ آبادی کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ اسرائیل کے بارے میں ناپسندیدہ یا منفی نظریہ رکھتا ہے۔ اس تناسب نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت اب اسرائیل کی پالیسیوں اور اس کے وجود کے حوالے سے دوٹوک اور مثبت مؤقف نہیں رکھتی۔ اس سروے نے پالیسی سازوں اور دونوں ممالک کے تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ عوامی سطح پر اس خلیج کو کیسے پاٹا جائے۔
مائیک ہکابی نے اس تمام صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جو لوگ تاریخی اور مذہبی پس منظر سے ناواقف ہوتے ہیں، وہ زمینی حقائق اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بائبل کی تعلیمات اور ان کے تاریخی پس منظر سے عدم واقفیت ہی وہ عنصر ہے جو امریکی معاشرے کے ایک بڑے طبقے کو اسرائیل کے خلاف رائے قائم کرنے پر اکساتا ہے۔ اس نوعیت کے بیانات سے امریکہ کے اندر جاری اس بحث کو مزید تقویت ملی ہے جو اسرائیل کی حمایت اور مخالفت کے دائرہ کار میں مسلسل جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کے باہمی تعلقات پر اس عوامی رائے کا کیا اثر پڑے گا، اس کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔ تاہم، یہ امر طے ہے کہ عوامی سطح پر پایا جانے والا یہ منفی رجحان مستقبل کی سفارتی حکمت عملیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ حکومتوں کی سطح پر چاہے کتنی ہی مضبوط شراکت داری کیوں نہ ہو، لیکن اگر عوامی سطح پر حمایت میں مسلسل کمی واقع ہوتی رہی تو اس کے دور رس سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔