World
ایران کی امریکہ کو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش
ایران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکہ کے سامنے سات دن کے اندر جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کی شرطیہ پیشکش رکھی ہے۔ اس تجویز کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور سفارتی مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔
نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران کی طرف سے ایک اہم اور حیرت انگیز سفارتی پیشکش سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکہ کو یہ تجویز دی ہے کہ اگر واشنگٹن انتظامیہ اس کی مخصوص شرائط کو تسلیم کر لے تو وہ محض سات دنوں کے اندر اندر خطے میں جاری جنگ کے خاتمے اور اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی اور توانائی کی سپلائی لائنز کو درپیش خطرات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس اور اہم ترین سمندری راستہ ہے، اور اس کے کھلنے سے عالمی منڈی میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ تہران کی جانب سے پیش کی جانے والی اس تجویز میں کچھ بنیادی شرائط رکھی گئی ہیں جن کا تعلق دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تنازعات اور خطے میں عسکری سرگرمیوں سے ہے۔ تاحال امریکی حکومت یا اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کی طرف سے اس تجویز پر کوئی باضابطہ یا حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں اس پیشکش کو انتہائی غور سے دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فریقین کے درمیان بات چیت کا یہ نیا دروازہ کھلتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں جاری خونریز کشیدگی میں کمی آسکتی ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔ دوسری جانب دنیا بھر کے ممالک اس پیشکش کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا امریکہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گا یا نہیں۔