World
یمن کا حوثی باغیوں کے لیے عام معافی کا اعلان اور مسلح افواج میں شمولیت کی دعوت
یمنی حکومت نے ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو ہتھیار ڈالنے کی صورت میں عام معافی کی پیشکش کی ہے۔ صدر نے تمام شہریوں کو ملک کے دفاع کے لیے مسلح افواج میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی ہے۔
یمن کی سرکاری قیادت نے ملک میں جاری بحران کے تناظر میں ایک اہم اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ان تمام افراد کو ایک اور موقع فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے جو ماضی میں باغی گروہ کا حصہ بنے تھے لیکن اب پرامن زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ جو بھی حوثی جنگجو ہتھیار ڈال کر ریاست کی رٹ کو تسلیم کریں گے، انہیں مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی یمن کے صدر نے ملک کے عام شہریوں سے بھی پرزور اپیل کی ہے کہ وہ آگے آئें اور ملک کے دفاع کے لیے مسلح افواج میں شمولیت اختیار کریں۔ صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد اور ایک مضبوط فوج کی اشد ضرورت ہے۔ شہریوں کو فوج کا حصہ بننے کی دعوت دینے کا مقصد دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنا اور ملک کی سالمیت کو یقینی بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق یمن کی حکومت کا یہ قدم ایک حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد حوثی صفوں میں پھوٹ ڈالنا اور تنازعے کے پرامن حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ایک طرف عام معافی کی پیشکش کے ذریعے باغیوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو دوسری طرف فوج کو مضبوط کر کے ملکی دفاع کو فول پروف بنایا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس پیشکش کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ کتنے حوثی جنگجو اس عام معافی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہتھیار ڈالتے ہیں۔