LIVE
Loading Breaking News...

یمنی صدر رشاد العلیمی کی حوثی منحرفین کے لیے عام معافی اور بھرتی کی اپیل

News Image
یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے ریڈ سی کے مغربی ساحل پر زمینی نقصان اٹھانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں حوثی گروپ سے منحرف ہونے والوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے عامتہ الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کی سکیورٹی اور دفاع کے لیے بھرپور انداز میں آگے آئیں اور صفوں میں شامل ہوں۔
یمن کی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے مغربی بحیرہ احمر کے ساحل پر حالیہ دنوں میں اہم علاقائی نقصانات اٹھانے کے بعد اپنی پہلی اہم عوامی تقریر میں کہا ہے کہ حکومت ان تمام افراد کو مکمل معافی فراہم کرے گی جو حوثی تحریک سے الگ ہو کر قومی دھارے میں واپس آنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور عسکری محاذ پر حکومت کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اپنے اس خطاب میں انہوں نے حوثی صفوں میں موجود مایوسی اور پھوٹ سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا اور باغیوں کے خلاف لڑنے والوں کے لیے دروازے کھلے رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ رشاد العلیمی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ جنگ صرف ایک فوجی معرکہ نہیں بلکہ یہ یمن کی بقا اور اس کے مستقبل کی جنگ ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے ملک کے تمام طبقات بالخصوص نوجوانوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ آگے آئیں اور ریاست کے دفاع اور استحکام کے لیے سکیورٹی اداروں میں شمولیت اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، العلیمی کا یہ اقدام حوثی باغیوں کے اندرونی اتحاد کو کمزور کرنے اور جنگ سے تنگ آ چکے افراد کو ایک محفوظ راستہ فراہم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یمنی حکومت کو توقع ہے کہ اس عام معافی کے اعلان سے حوثی صفوں میں مزید بغاوتیں جنم لیں گی، جس سے زمینی صورتحال پر حکومتی گرفت مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسری طرف، یمنی عوام کی جانب سے بھی اس اپیل پر ملی جلی ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ ملک طویل عرصے سے خانہ جنگی اور شدید انسانی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس اعلان کے عملی نتائج آنے والے دنوں میں خطے کی جنگی اور سیاسی حرکیات کا رخ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔