LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ سلامتی کونسل اصلاحات اور افریقہ کا مستقل نشستوں کا مطالبہ

News Image
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں افریقی ممالک نے سلامتی کونسل میں مستقل نشستوں اور ویٹو پاور کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، عالمی طاقتوں کے مابین اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے یہ اہم اصلاحاتی معاملہ طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاسوں کے دوران ایک بار پھر یہ اہم نکتہ زیر بحث آیا ہے کہ افریقی براعظم کو عالمی ادارے کے سب سے طاقتور فورم یعنی سلامتی کونسل میں اس کا جائز مقام کیوں نہیں مل پا رہا ہے۔ افریقی ممالک کی دیرینہ مانگ ہے کہ عالمی نظام میں بدلتی ہوئی زمینی حقائق کے پیش نظر انہیں سلامتی کونسل میں مستقل نشستیں اور ویٹو کا حق دیا جائے۔ اس طویل مدتی مہم کا مقصد عالمی فیصلوں میں افریقی خطے کی موثر نمائندگی کو یقینی بنانا ہے، جو کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر مشتمل ہے لیکن فیصلے سازی کے عمل میں اس کا کردار انتہائی محدود ہے۔ افریقہ کے اس جائز اور متفقہ مطالبے کے باوجود، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا عمل مسلسل تعطل کا شکار ہے۔ بنیادی رکاوٹ یہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اور مختلف علاقائی گروہ اس بات پر متفق نہیں ہو پا رہے ہیں کہ نئی مستقل نشستیں کس کو دی جائیں اور کیا ان نئے اراکین کو بھی ویٹو پاور کا حامل بنایا جائے یا نہیں۔ مفادات کے اس اسٹریٹجک ٹکراؤ اور پیچیدہ سفارتی رسہ کشی کی وجہ سے اصلاحات کا ہر فارمولا اب تک کاغذ ہی تک محدود رہا ہے اور کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔ ماہرین کے مطابق، جب تک اقوام متحدہ کے موجودہ ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں، ادارے کی ساکھ پر سوالات اٹھتے رہیں گے۔ عالمی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افریقہ کو نظر انداز کرنے سے سلامتی کونسل کی بین الاقوامی استناد بری طرح متاثر ہو رہی ہے کیونکہ اکیسویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک غیر متوازن کونسل مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ افریقی یونین اور اس کے حامی ممالک اس بات پر بضد ہیں کہ وہ اپنے اس مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور عالمی سطح پر انصاف اور برابری پر مبنی نمائندگی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔