LIVE
Loading Breaking News...

ٹک ٹاک الباما تلافی معاہدہ، 100 ملین ڈالر ادائیگی

News Image
مقبول ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے نوعمر صارفین کو لت میں مبتلا کرنے کے الزامات کے تحت امریکی ریاست الباما کو ایک سو ملین ڈالر ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ مقدمے کی سماعت سے صرف چند روز قبل طے پایا ہے جو قانونی ماہرین کی نظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
عالمی شہرت یافتہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے امریکی ریاست الباما کے ساتھ ایک بڑے عدالتی تنازع کو ختم کرنے کے لیے کم از کم 100 ملین ڈالر کی ادائیگی کا معاہدہ طے کر لیا ہے۔ یہ اہم قانونی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اس معاملے پر باقاعدہ مقدمے کی سماعت شروع ہونے میں محض چند دن باقی رہ گئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں فریقین نے طویل عدالتی کارروائی سے بچنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مقدمہ اس حوالے سے دائر کیا گیا تھا کہ کس طرح پلیٹ فارم کے الگورتھم نے نوعمر صارفین کو اس کا عادی بنایا اور ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے۔ ریاست الباما کی جانب سے ٹک ٹاک کی پالیسیوں اور اس کے نشہ آور ڈیزائن کے خلاف سنجیدہ نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جن کے دفاع میں کمپنی نے ابتدائی طور پر مؤقف اختیار کیا تھا تاہم اب مالی تلافی کے ذریعے معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی راہ نکالی گئی ہے۔ اس تاریخی معاہدے کے بعد ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بار پھر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو نوجوان نسل بالخصوص بچوں کی ذہنی صحت اور حفاظت کے حوالے سے کتنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے تلافی کے معاہدے دیگر امریکی ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتے ہیں جو اسی طرح کے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں اور بڑی ٹیک کمپنیوں کو کٹہرے میں لانے کی تیاری میں ہیں۔ ٹک ٹاک انتظامیہ نے اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور مستقبل میں پلیٹ فارم کو کم عمر صارفین کے لیے مزید محفوظ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔