LIVE
Loading Breaking News...

مکہ دفاعی اتحاد: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق

News Image
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے فوجی حکام نے ریاض میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران مکہ دفاعی اتحاد کے تحت کیے گئے وعدوں کو فوری طور پر موثر عسکری تعاون میں تبدیل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے بالخصوص سعودی عرب میں سیکیورٹی خدشات اور حوثیوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی اتحاد کے تحت اپنے عزم کو فوری طور پر موثر عسکری تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ اہم عزم جمعہ کے روز ریاض میں چیف آف ڈیفنس فورسز، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی عرب اور ترکیہ کے چیف آف جنرل سٹاف کے درمیان ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ظاہر کیا گیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب میں سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ پایا جاتا ہے کیونکہ یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں تیزی آئی ہے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق اجلاس کے شرکاء نے مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لیے کئی اہم اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ان اقدامات میں انٹیلی جنس کا بہتر تبادلہ، عسکری ہم آہنگی اور دفاعی صلاحیتوں کو مربوط کرنا شامل ہے۔ ان تمام امور کا مقصد اجتماعی دفاع اور خطے میں ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا ہے۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور مقدس شہر مکہ مکرمہ کے ساتھ ساتھ سویلین اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے مملکت کے عوام کے تحفظ کے لیے سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور چوکسی کو بھی سراہا۔ فوجی قیادت نے اجتماعی دفاع کے عزم کا اعادہ کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تینوں ممالک سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ ریاض کا یہ اجلاس پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان گہرے دفاعی تعلقات کا مظہر ہے۔ یاد رہے کہ مکہ دفاعی اتحاد پر رواں سال 7 اگست کو دستخط کیے گئے تھے جبکہ استنبول میں ہونے والے اجلاس کے دوران مستقل سیکریٹریٹ ریاض میں قائم کرنے کا فیصلہ ہوا تھا اور پاکستان کو پہلے تین سال کے لیے سیکریٹری جنرل فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ہونے والی ملاقات کے بعد اب فوجی سربراہان نے عملی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے، تاہم کسی بھی مخصوص تعیناتی یا فوجی امداد کا فیصلہ سعودی عرب کی ضرورت اور تینوں فریقین کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت ہوگا۔ ترکیہ پہلے ہی سعودی عرب کی دفاعی ضروریات خاص طور پر تکنیکی امور میں مدد فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کر چکا ہے جبکہ پاکستان بھی اس معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیے پُرعزم ہے۔