LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی آبنائے ہرمز بحالی کی تجویز اور امریکی ردعمل

News Image
ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات روزہ امن منصوبہ پیش کیا تھا جسے امریکہ نے مبینہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔
تہران نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا تھا، تاہم اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم یہ آبی گزرگاہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران سفارتی کوششوں میں تیزی آئی تھی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی تھی تاکہ اس تعطل کو ختم کیا جا سکے۔ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ ایران نے قطر کے توسط سے امریکہ کو ایک سات روزہ ٹھوس منصوبہ پہنچایا ہے جس کے تحت شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ منصوبے کے مطابق تمام مشرق وسطیٰ میں دشمنی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی جو کہ تقریبا بارہ ارب ڈالر بتائے جاتے ہیں، تیل کی پابندیوں کا خاتمہ اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل تھا۔ اس کے بدلے میں ساتویں دن آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جاتا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی تصدیق کی تھی کہ جنگ بندی کا عمل امریکہ کی رضامندی سے شروع ہو سکتا ہے۔ تاہم اس تجویز کے سامنے آنے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صدر کو تہران کی جانب سے مطالبات پورے کرنے پر شکوک و شبہات ہیں اور وہ اس خطے میں مزید فوجی کارروائیوں کا عندیہ دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک نقشہ بھی شیئر کیا جس میں آبنائے ہرمز کو گھیرے میں لے کر اسے ٹرمپ اسٹریٹ کا نام دیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان جون میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے تھے جو بعد میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد ناکام ہو گئی تھی۔