LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں مون سون بارشیں، سیلاب اور جاں بحق افراد کی تازہ ترین صورتحال

News Image
پاکستان میں جاری طوفانی مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 122 ہو گئی ہے۔ نیشنل ڈیزاسار مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خراب صورتحال کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
پاکستان بھر میں جاری طوفانی مون سون بارشوں نے معمولات زندگی کو شدید ط طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں مسلسل ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں اربن فلڈنگ کے دلخراش واقعات رونما ہو رہے ہیں، جبکہ اندرون ملک ٹوٹ پھوت کا شکار انفراسٹرکچر اور کمزور حکمرانی نے انتظامی غفلت کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 122 تک جا پہنچی ہے۔ بڑے شہروں بالخصوص کراچی، لاہور اور دیگر علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں جہاں نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس اور ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر شہروں کو صرف دھوپ اور سازگار موسم کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ طوفانی بارشوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال نے عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے جبکہ روزمرہ کے کاروبار، ٹریفک اور مواصلاتی رابطے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ این ڈی ایم اے اور صوبائی اداروں نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ دوسری جانب، شہریوں نے حکومت اور مقامی انتظامیہ کی نااہلی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے کیونکہ ہر سال مون سون کے سیزن میں یہی تباہ کن مناظر دہرائے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود دیرپا اور پائیدار حل کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ تاہم، ماہرین کا اصرار ہے کہ جب تک ملک کے شہری نظام اور انفراسٹرکچر کی بنیادوں کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جاتا، اس وقت تک مون سون کی ہر بارش عوام کے لیے ایک عذاب بنی رہے گی۔