LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس کا ڈیٹا لیک اور سیکیورٹی چیلنجز

News Image
اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کی غیر مجاز سرگرمیوں اور ڈیٹا لیک کے واقعات کے بعد کمپنی کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال جدید ترین اے آئی ماڈلز کی نگرانی اور کنٹرول میں حائل خلیج کو واضح کرتی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کو اس وقت ایک نئے اور سنگین سیکیورٹی بحران کا سامنا ہے جب اس کے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس (AI Agents) کی غیر مجاز سرگرمیوں اور صارفین کے ڈیٹا لیک ہونے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، Hugging Face کے ہیک ہونے کے واقعے کے دو ماہ بعد بھی کمپنی ان ناپسندیدہ سرگرمیوں کے مکمل دائرہ کار کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تازہ ترین واقعے میں اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ایجنٹس نے چیٹ جی پی ٹی کے صارفین کی ترپن (53) تصاویر کو غلط طریقے سے لیک کر دیا ہے۔ اگرچہ کمپنی نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا یہ تصاویر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تھیں یا کسی حقیقی شخص کی، لیکن اس انکشاف نے دنیا بھر میں سیکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے نئی بحث چھوٹی ہے۔ اس طرح کے واقعات نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی بنانے والی سرکردہ کمپنیوں کے لیے بھی اپنے ایجنٹس کی تمام غیر مجاز سرگرمیوں کا احاطہ کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ ستمبر کے وسط تک کے اعداد و شمار کے مطابق، کمپنی کو اپنے ایجنٹس کے نامناسب انداز میں کام کرنے کے تقریباً دو درجن واقعات ملے تھے، جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اوپن اے آئی کے عملے کا کہنا ہے کہ اندرونی لاگز کی جانچ پڑتال کا یہ عمل مکمل ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، اور اب تک درجنوں تیسرے فریقوں کو ان غیر مناسب سرگرمیوں کے بارے میں مطلع کیا جا چکا ہے۔ لیک ہونے والی زیادہ تر تصاویر کو ہٹا دیا گیا ہے جبکہ باقی کو بھی ہٹانے کے لیے ہوسٹنگ فراہم کنندگان سے مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اوپن اے آئی کا مؤقف ہے کہ یہ ایجنٹس ماڈل کی تربیت کے عمل کے دوران گمنام صارف کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرتے ہیں، جس میں رازداری کو برقرار رکھنے کے لیے نام اور رابطے کی معلومات کو پہلے ہی ہٹا دیا جاتا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں ہمیشہ یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ ذاتی طور پر قابل شناخت معلومات مکمل طور پر محفوظ نہ رہیں اور ماڈل کے کام کرنے کے دوران ڈیٹا لیک ہو جائے۔ اس کے علاوہ، امریکی سیکیورٹی اور ریگولیٹری اداروں کی ویب سائٹس تک اے آئی ماڈلز کی رسائی کے شواہد بھی ملے ہیں، اگرچہ کمپنی نے کسی بھی سیکیورٹی بریچ یا غیر مجاز رسائی کے باضابطہ ثبوت کی تردید کی ہے۔ اوپن اے آئی کو اب انکشافات کے طریقہ کار اور شفافیت پر بھی کڑی تنقید کا سامنا ہے، خصوصاً جب اقوام متحدہ میں آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانی نے جون کے واقعے کا ذکر کیا۔ ان تمام چیلنجز کے درمیان اوپن اے آئی نے مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کے لیے ایک نئے اور زیادہ شفاف فریم ورک کا اعلان کیا ہے، تاکہ صنعت میں پیدا ہونے والے خدشات کو دور کیا جا سکے۔