LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم: 6 ملین شہریوں کی رجسٹریشن اور تفصیلات

News Image
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے بتایا ہے کہ وزیراعظم کے فیول ریلیف پروگرام کے تحت اب تک 59 لاکھ سے زائد شہریوں کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسکیم کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے تناظر میں عام شہریوں کو براہ راست ریلیف فراہم کرنا ہے۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے جمعہ کے روز ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم کے فیول ریلیف اسکیم کے تحت اب تک تقریباً 59 لاکھ 10 ہزار شہریوں کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی بھی موجود تھے۔ وزیر آئی ٹی نے بتایا کہ اس فلاحی اسکیم کے آغاز سے لے کر اب تک 61 لاکھ 80 ہزار سے زائد فیول ریلیف ٹوکنز جنریٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے 47 لاکھ 90 ہزار ٹوکنز کامیابی کے ساتھ ریڈیم بھی کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے عوام کی شکایات اور آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگچی رکشوں کے لیے پانچ لیٹر کی پابندی ختم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ سے متاثرہ عام شہریوں کو براہ راست ریلیف دینے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ یہ اسکیم دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں جن میں موٹر سائیکلز، رکشے، چنگچی اور 800 سی سی تک کی کاریں شامل ہیں، کے لیے بنائی گئی ہے۔ حکومت نے کرائے کے موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والوں کے لیے ملکیت کی شرط کو بھی ختم کر دیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس ٹیکنالوجی پر مبنی اور شفاف نظام سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے تقریب کے دوران ایک لائیو ڈیش بورڈ بھی پیش کیا جس میں تمام صوبوں اور خطوط کے لحاظ سے رجسٹریشن اور ٹوکنز کی تقسیم کا تفصیلی احاطہ کیا گیا تھا۔ صوبائی اعداد و شمار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ اسلام آباد میں 210,032، پنجاب میں 30.7 لاکھ، سندھ میں 12.1 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 267,460، بلوچستان میں 6,761، آزاد جموں و کشمیر میں 23,796 اور گلگت بلتستان میں 4,845 ٹوکنز ریڈیم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اعداد و شمار ملک بھر میں اس اسکیم کی وسیع رسائی کو ظاہر کرتے ہیں جہاں تمام علاقوں کے مستحقین اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وزارتِ آئی ٹی میں ایک چوبیس گھنٹے فعال کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جو رجسٹریشن سے لے کر ٹوکنز کے اجراء اور ریڈیمشن تک کے پورے عمل کی کڑی نگرانی کر رہا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور مسائل کا فوری حل نکالا جا سکے۔ شزہ فاطمہ نے پٹرول پمپ ڈیلرز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور اوگرا کا شکریہ ادا کیا کہ وہ شہریوں کو بھرپور سہولت فراہم کر رہے ہیں اور پٹرول پمپ کے عملے سے اپیل کی کہ وہ مستحق افراد کی رجسٹریشن میں معاونت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پیٹرول پمپس کی نگرانی کے لیے لائیو جی آئی ایس میپ کا استعمال کر رہی ہے اور پٹرول پمپس کو چوبیس گھنٹے کے سائیکل کے اندر ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ اگر کسی شہری کو اس اسکیم کے حوالے سے کوئی دشواری پیش آئے تو وہ ہیلپ لائن 9771 پر رابطہ کر سکتا ہے یا سرکاری ویب سائٹ وزٹ کر سکتا ہے۔