Technology
امریکہ اور چین کا مصنوعی ذہانت پر تعاون کا فیصلہ
امریکہ اور چین کے درمیان ہونے والے حالیہ سربراہی اجلاس کے بعد مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے میں ابلاغ کا ایک نیا چینل کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس اقدام کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان ٹیکنالوجی کے میدان میں پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات اور بحرانوں سے نمٹنا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس کے بعد مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں باہمی تعاون اور مواصلت کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ دونوں عالمی طاقتیں مصنوعی ذہانت سے جڑے ہوئے ممکنہ خطرات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک باقاعدہ مواصلاتی چینل قائم کریں گی۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے مابین ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑھتے ہوئے مسابقتی ماحول کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی میں سبقت لے جانے کی دوڑ میں مصروف ہیں، تاہم مصنوعی ذہانت کے غیر متوقع خطرات عالمی سطح پر امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔ اس نئے چینل کے ذریعے دونوں حکومتیں اے آئی کے استعمال میں شفافیت لانے اور کسی بھی ناگہانی بحران کو روکنے کے لیے ایک دوسرے سے رابطہ قائم رکھ سکیں گی۔ اس پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تکنیکی محاذ پر کشمکش کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، اس اجلاس کے دوران دونوں فریقوں کے مابین تجارت اور دیگر غیر حساس اشیا کے حوالے سے بھی کچھ اہم امور پر بات چیت ہوئی ہے، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دونوں ممالک اہم معاشی اور تکنیکی مسائل پر بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کے خواہاں ہیں۔