LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی مارچ ملتوی: اسلام آباد میں سکیورٹی اخراجات بڑھ گئے

News Image
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کو چار اکتوبر تک ملتوی کرنے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں حکومت کے سکیورٹی اخراجات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جبکہ سیاسی کشیدگی میں بھی تیزی آ گئی ہے۔
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دارالحکومت کی طرف اپنے احتجاجی مارچ کی تاریخ میں ردوبدل اور اسے چار اکتوبر تک موخر کرنے کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت کے سکیورٹی اخراجات میں نمایاں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے اسلام آباد انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے تک ہائی الرٹ رہنا پڑے گا، جس سے ملکی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ احتجاج کو مزید منظم بنایا جا سکے، تاہم اس سے حکومتی سطح پر سکیورٹی انتظامات کے لیے مختص رقوم میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے اور شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ حکومت نے اس صورتحال پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں سکیورٹی کی تیاریوں کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نپٹا جا سکے۔ حکومتی وزراء نے اس سیاسی صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت پر بھی سخت تنقید کی ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ صوبائی مشینری کا اس طرح کے دباؤ کے لیے استعمال ہونا صوبے اور مرکز کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر دونوں فریقین نے سیاسی لچک کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی نہ صرف معیشت کو متاثر کرے گی بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی مشکلات سے دوچار کرے گی، جس سے ملک میں پہلے سے موجود سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔