World
ٹرمپ نے آبِ ہرمز کے لیے ایران کی امن پیشکش ٹھکرا دی
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر آبِ ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران کی سات روزہ امن پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ اس دوران ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر ایران کی اس پیشکش کو مسترد کر رکھا ہے جس میں آبِ ہرمز کو سات دنوں کے اندر دوبارہ کھولنے کی بات کہی گئی تھی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کی جانب سے یہ امن منصوبہ پیش کیا گیا تھا تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے، تاہم واشنگٹن کی طرف سے اس پر سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پیشکش کے مسترد ہونے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کے اضافی یا یکطرفہ مطالبات کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ ایرانی موقف کے مطابق ملک کے جوہری اور دفاعی معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ دوسری طرف عالمی میڈیا میں یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں کہ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد خطے میں بمباری یا عسکری کارروائیوں میں دوبارہ تیزی آ سکتی ہے۔
عالمی سطح پر اس پیشکش کے مسترد ہونے اور جوہری امور پر سخت گیر موقف کے بعد سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ آبِ ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شامل ہے جہاں سے تیل کی رسد کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے کی بندش یا اس کے گرد و نواح میں کشیدگی کے عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تمام متعلقہ فریقین اس وقت صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی جنگ یا معاشی بحران کو روکا جا سکے۔