World
نیتنیاہو اور 7 اکتوبر کے حملے: اہم انتباہ کو نظر انداز کرنے کا انکشاف
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کو 7 اکتوبر کے حملے سے قبل ایک عرب رہنما کی جانب سے ممکنہ خطرے سے خبردار کیا گیا تھا۔ تاہم سیاسی مصروفیات اور دیگر خدشات کے باعث اس انتباہ پر بروقت توجہ نہیں دی گئی۔
بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کو 7 اکتوبر کے تباہ کن حملوں سے قبل ایک اہم عرب رہنما کی جانب سے ممکنہ خطرات کے حوالے سے باقاعدہ خبردار کیا گیا تھا۔ اس انتباہ کا مقصد اسرائیل کو اس خطرے سے آگاہ کرنا تھا جو حماس کی جانب سے پیدا ہو رہا تھا، لیکن مبینہ طور پر اس وارننگ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی انٹیلی جنس معلومات اور انتباہات کو پس پشت ڈالنا خطے کی سکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس وقت کے حالات اور سیاسی ترجیحات کی وجہ سے وزیر اعظم نیتنیاہو نے غزہ میں کسی بھی قسم کے پیشگی فوجی اقدامات کی مخالفت کی تھی۔ اس مخالفت کی ایک بڑی وجہ یہ خدشہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر اس وقت کوئی بڑا فوجی قدم اٹھایا جاتا تو اس سے سعودی عرب کے ساتھ جاری امن مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اس طویل مدتی سفارتی ہدف کے حصول کی خاطر سکیورٹی کے اس فوری اور ہنگامی خطرے کو کم کر کے دیکھا گیا، جس کے بعد میں انتہائی ہولناک نتائج برآمد ہوئے۔
اس صورتحال نے اسرائیلی سیاسی نظام اور عسکری قیادت کے اندر پائے جانے والے فیصلوں کے طریقہ کار پر شدید بحث کو جنم دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی فوائد اور سفارتی کامیابیوں کو قومی سلامتی اور زمینی حقائق پر فوقیت دینا ایک مہنگا سودا ثابت ہوا ہے۔ 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد سے اسرائیل کے اندر انٹیلی جنس ناکامیوں اور سیاسی رہنماؤں کی غفلت کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں، اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی سنگین غلطیوں سے بچنے کے لیے کڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔
اس سارے تنازعے کے درمیان، یہ واقعہ اسرائیلی تاریخ کے انتہائی سیاہ ابواب میں شمار ہوتا ہے جہاں خطرات کی موجودگی کے باوجود بروقت کارعمل سامنے نہیں آ سکا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاملے کی گہرائی میں جا کر ذمہ داروں کا تعین کیا جانا ضروری ہے تاکہ اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک موثر اور مربوط حکمت عملی تیار کی جا سکے، جو آئندہ کسی بھی بڑے سانحے کو روکے سکے۔