LIVE
Loading Breaking News...

ایران اور اسلام آباد معاہدہ: چین کی حمایت کا خیرمقدم

News Image
ایرانی صدر نے اسلام آباد کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کے نفاذ اور اس کی واپسی کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔
تہران: ایران کے صدر نے حال ہی میں اسلام آباد کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے لیے چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی حمایت کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔ اس پیش رفت کو علاقائی سطح پر ایک اہم سفارتی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ اس مفاہمت سے نہ صرف باہمی تجارت اور سکیورٹی امور میں بہتری آئے گی بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی نئے راہیں کھلیں گے۔ ذرائع کے مطابق، ایرانی صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تہران اسلام آباد کے ساتھ ہونے والے ان معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اس پس منظر میں چین کی جانب سے حمایت کا اعلان اس خطے میں سفارتی توازن اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوںممالک کے مابین اس تعاون سے اقتصادی اور سیاسی سطح پر نئے اور مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں اس قسم کی مفاہمت کی یادداشتیں ملکوں کے درمیان خلیج کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ تاریخی اور ثقافتی روابط ہیں، اور چین کی شمولیت اس اشتراکِ عمل کو مزید تقویت بخشتی ہے۔ دونوں فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ خطے میں استحکام کے لیے مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور مبصرین اس پیش رفت کو علاقائی تجارت اور امن کے لیے سودمند قرار دے رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے اس حمایت کا خیرمقدم اس بات کا غماز ہے کہ تہران اپنے تمام دیرینہ شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مفاہمت کے عملی نفاذ کے لیے مزید اعلیٰ سطح کے رابطے متوقع ہیں۔