World
صدر پزشکیان کا بیان: ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مضبوطی سے کھڑا ہے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ غلط فیصلوں اور پابندیوں کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے میں امن کے قیام کے لیے بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے عائد کی جانے والی غلط حساب کتاب پر مبنی پابندیوں کے سامنے پوری قوت سے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ تہران میں ایک اہم تقریب سے خطاب اور غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کے آگے سر نہیں جھکائے گا اور اپنے قومی مفاد کا بھرپور دفاع جاری رکھے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران پر عائد کی جانے والی پابندیوں سے تہران کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات اور کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان اب بھی کافی فاصلے موجود ہیں اور امن کی راہ میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ صدر پزشکیان نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جنگ اور تنازعات کے خاتمے کی اصل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ واشنگٹن کی پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے یکطرفہ فیصلوں کے بجائے منصفانہ اور پائیدار حل کی تلاش کرے۔
اس کے علاوہ، نیویارک میں ایک ہوٹل میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ ایران سابق امریکی صدر یا موجودہ امریکی شخصیات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ایران کا مقصد کسی کے خلاف تخریب کاری کرنا نہیں بلکہ اپنے دفاع اور خودمختاری کا تحفظ کرنا ہے۔
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ایرانی قیادت کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مزید سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے، تاہم تہران کی جانب سے واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔