AI
بل گیٹس کی مصنوعی ذہانت کے خطرات پر اہم وارننگ
مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (AI) کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اتنی طاقتور ہو سکتی ہے کہ اس سے ایک ارب اموات واقع ہو سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کمپنیاں خود ضابطہ کاری پر انحصار نہ کریں بلکہ حکومتوں کو اس کی نگرانی کرنی چاہیے۔
مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور معروف ٹیکنالوجی ماہر بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے حوالے سے انتہائی تشویشناک انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے اپنے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ موجودہ دور میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مصنوعی ذہانت اتنی زیادہ طاقتور ہو سکتی ہے کہ اس کے منفی اثرات کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایک ارب تک اموات واقع ہو سکتی ہیں۔ بل گیٹس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اے آئی کی بے قابو ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات پر سنجیدہ مباحثے جاری ہیں۔
بل گیٹس کا ماننا ہے کہ صرف مصنوعی ذہانت بنانے والی نجی کمپنیوں پر بھروسہ کرنا اور ان کا خود اپنے ضابطے بنانا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ عالمی اور وفاقی حکومتوں کو اس معاملے میں براہ راست مداخلت کرنی چاہیے اور اس کی سخت نگرانی کا نظام وضع کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو نہ روکا گیا تو اس کے انسانیت کے لیے انتہائی ہولناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جن پر بعد میں قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق بل گیٹس کی یہ وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اے آئی صرف معاشی یا تعلیمی انقلاب نہیں لائے گی بلکہ یہ قومی سلامتی، صحت اور انسانی بقا کے لیے بھی بڑے چیلنجز کھڑے کر سکتی ہے۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت طب، سائنس اور روزمرہ زندگی میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے، لیکن اس کے عسکری یا غلط ہاتھوں میں جانے سے انسانیت کو لاحق خطرات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ بل گیٹس نے اسی بات پر زور دیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اخلاقیات اور حفاظتی اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔