World
آلودہ خون کے تجربات کا شکار ہونے والے طلبا کی یاد میں اسکول میں یادگار قائم
برطانیہ کے ایک اسکول میں 1970 اور 1980 کی دہائی میں آلودہ خون کے طبی تجربات کا نشانہ بننے والے طلباء کی یاد میں یادگار نصب کر دی گئی ہے۔ اس دلخراش واقعے میں طلبا کو معلوماتی یا رضامندی کے بغیر خطرناک طبی مصنوعات کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
برطانیہ کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں ایک انتہائی دردناک اور تاریخی واقعے کی یاد میں یادگار کی نقاب کشائی کی گئی ہے، جہاں 1970 اور 1980 کی دہائی کے دوران معصوم طلبا کو آلودہ خون اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کے طبی تجربات کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ اسکول ان طلبا کا دوسرا گھر تھا جنہیں بظاہر بہتر طبی امداد اور علاج کے نام پر خطرناک اور جان لیوا تجربات کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ اس اسکینڈل نے اس وقت کے طبی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کیے تھے اور متاثرہ خاندانوں کو دہائیوں تک صدمے اور انصاف کی جنگ میں مبتلا رکھا۔
ابتدائی اطلاعات اور تاریخی شواہد کے مطابق، اسکول کے دورے اور عام تعلیمی دنوں کے دوران طلباء کو خون کے وہ پروڈکٹس دیے گئے جو مبینہ طور پر ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی جیسے موذی امراض سے آلودہ تھے۔ متاثرہ بچوں اور ان کے والدین کو اس بات کا بالکل بھی ادراک نہیں تھا کہ جن ادویات یا علاج کو ان کی بہتری کے لیے تجویز کیا جا رہا ہے، وہ درحقیقت ایک خطرناک میڈیکل ٹرائل کا حصہ ہیں۔ اس اندوہناک عمل کے نتیجے میں بعد ازاں کئی بچے شدید بیماریوں کا شکار ہوئے اور ان کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے متاثر ہو کر رہ گئیں۔
نصب کی گئی اس نئی یادگار کا مقصد نہ صرف ان تمام معصوم بچوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے اس ظلم کا سامنا کیا، بلکہ آنے والی نسلوں کو اس تاریک باب سے آگاہ رکھنا بھی ہے۔ تقریب میں شریک متاثرین کے لواحقین اور سابق طلبا کا کہنا تھا کہ اس یادگار کا قیام انصاف کی طرف ایک قدم ہے، تاہم اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اس مکروہ فعل کے ذمہ داروں کو پوری طرح بے نقاب کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل ریاستی تعاون فراہم کیا جائے۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ طبی اخلاقیات اور انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے والے عناصر سے کس طرح سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین صحت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس یادگار کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں اس قسم کے گھنائونے تجربات کی روک تھام کے لیے شفافیت اور سخت ضابطہ اخلاق کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی تعلیمی یا طبی ادارے میں دوبارہ کبھی ایسا سانحہ رونما نہ ہو۔