Business
ٹک ٹاک کے دور میں کتابوں کی دکانوں کی مقبولیت میں اضافہ
ڈیجیٹل دور اور آن لائن شاپنگ کے باوجود دنیا بھر میں آزاد کتابوں کی دکانیں تیزی سے کھل رہی ہیں۔ کتابوں سے محبت کرنے والے نوجوان طبقات اس رجحان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
آج کے اس ڈیجیٹل اور تیز رفتار دور میں جہاں ہر چیز آن لائن اور اسکرین پر منتقل ہو چکی ہے، ایک حیرت انگیز رجحان یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ شہروں اور قصبوں میں آزاد کتابوں کی دکانیں تیزی سے کھل رہی ہیں اور ان کا کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ یہ بات بظاہر عجیب لگتی ہے کہ سوشل میڈیا اور ای بکس کے زمانے میں لوگ جسمانی طور پر کتابیں خریدنے کے لیے کیوں نکل رہے ہیں۔ کتابوں کی دکانوں کے مالکان اور ماہرین کے مطابق، اس طلاطم خیز اضافے کے پیچھے سوشل میڈیا بالخصوص ٹک ٹاک کا ایک بڑا ہاتھ ہے جہاں کتابوں سے متعلقہ مواد انتہائی مقبول ہے۔ ٹک ٹاک پر بک ٹاک نامی کمیونٹی نے نوجوان نسل کے اندر پڑھنے کا شوق دوبارہ زندہ کر دیا ہے، جس کے باعث وہ اب فزیکل کتابیں خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کتابوں کی یہ دکانیں اب محض کتابیں بیچنے کی جگہ نہیں رہیں بلکہ یہ کمیونٹی ہب کی شکل اختیار کر چکی ہیں جہاں لوگ مل بیٹھتے ہیں اور ادبی تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔ دکانوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ صارفین آن لائن خریداری کے مقابلے میں کتابوں کی دکان کے پرسکون ماحول، کتابوں کے سر ورق کو چھونے اور ذاتی نوعیت کے مشورے حاصل کرنے کے تجربے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی چینز کے مقابلے میں چھوٹے اور آزاد بک سٹورز اس نئے دور میں بھی نہایت کامیابی کے ساتھ اپنے قدم جما رہے ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔