World
ایرانی صدر کا بیان: واشنگتن سے مذاکرات پر اعتماد ختم ہو چکا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو واشنگتن کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر اب کوئی اعتماد باقی نہیں رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قطر اور پاکستان اس وقت تہران اور امریکہ کے درمیان پیغامات پہنچانے کا کام کر رہے ہیں۔
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران کو اب واشنگتن کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات پر کوئی بھروسہ نہیں رہا ہے۔ الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی صدر نے بین الاقوامی سفارت کاری اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے تہران کے سخت مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات اور وعدہ خلافیوں کے بعد موجودہ حالات میں امریکہ پر اعتبار کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے باہمی بات چیت کے راستے فی الحال بند دکھائی دیتے ہیں۔ انٹرویو کے دوران ایرانی صدر نے خطے کے ممالک کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس وقت قطر اور پاکستان تہران اور واشنگتن کے درمیان سفارتی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ دونوں برادر ممالک تہران کے پیغامات کو امریکہ تک پہنچانے اور وہاں کے ردعمل سے آگاہ کرنے کی ذمے داری نبھا رہے ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع کو کھلا رکھا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ بیان خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی حرکیات اور امریکہ کے ساتھ طویل عرصے سے جاری تعطل کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ براہ راست بات چیت پر تاحال عدم اعتماد کا سایہ ہے، تاہم پاکستان اور قطر جیسے دوست ممالک کی کوششیں اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ سفارتی مواصلاتی نظام مکمل طور پر بند نہ ہو اور مستقبل میں کسی بھی ناگوار صورتحال سے بچنے کے لیے رابطے بحال رہیں۔