LIVE
Loading Breaking News...

کانگو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ اور پڑوسی ممالک کے لیے خطرات

News Image
جمہوری جمہوریہ کانگو میں مہلک ایبولا وائرس تیزی سے نئے علاقوں تک پھیل گیا ہے جس کے بعد خطے کے دس ممالک کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور مقامی حکام اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں۔
جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) میں ایک بار پھر ایبولا وائرس کے پاؤں پھیلنے لگے ہیں اور یہ مہلک وبا ملک کے نئے علاقوں تک پہنچ چکی ہے۔ طبی ماہرین اور عالمی اداروں کی طرف سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق اس تازہ لہر نے نہ صرف مقامی آبادی کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے بلکہ اس کے اردگرد موجود دس دیگر ممالک کو بھی ہائی رسک زون میں لا کھڑا کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وائرس کی منتقلی اور پھیلاؤ کی رفتار پر قابو پانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی علاقائی تباہی کو روکا جا سکے۔ مقامی طبی عملہ اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں چلا رہی ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں قرنطینہ مراکز قائم کیے جا رہے ہیں اور لوگوں میں اس بیماری سے بچاؤ سے متعلق آگاہی مہمات بھی شروع کر دی گئی ہیں تاکہ عوام کو اس کے مہلک اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم، بنیادی طبی ڈھانچے کی کمی اور رس رسائی کے مسائل کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت بین الاقوامی امداد اور ویکسین کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ وائرس ملکی سرحدیں عبور کر کے پورے خطے کے لیے ایک بڑا انسانی بحران پیدا کر سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر شراکت دار ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور علاقائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ہنگامی لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔