LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران کی جنگ بندی تجویز پر ردعمل اور آئندہ کی حکمت عملی

News Image
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
امریکہ میں سیاسی حلقوں اور بین الاقوامی میڈیا میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے یا نہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، امریکہ کے سابق اور آئندہ ممکنہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے خطے میں ایک بار پھر تناؤ بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں اور سفارتی سطح پر بے یقینی کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یہ سخت مؤقف اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ تہران کے خلاف اپنی سخت گیر پالیسیوں پر برقرار ہیں۔ کچھ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مزید دباؤ بڑھانے اور مبینہ طور پر دوبارہ حملے کرنے کے آپشن پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ عارضی فائر بندی سے تہران کو عسکری اور سیاسی فائدہ مل سکتا ہے جسے واشنگٹن کسی بھی صورت میں برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ دوسری جانب، ایران کی حکومت اور عسکری قیادت نے بھی امریکہ کے اس رویے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اس صورتحال نے عالمی مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ سرمایہ کار مشرق وسطی میں کسی بھی بڑی فوجی محاذ آرائی سے خوفزدہ ہیں۔ آئندہ آنے والے دنوں میں سفارتی کوششیں کس سمت جائیں گی، اس کا انحصار واشنگٹن اور تہران کے اگلے اقدامات پر ہوگا۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ خطے کو ایک اور تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے، تاہم فی الحال سفارتی ڈیڈلاک ختم ہونے کے کوئی واضح آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔