LIVE
Loading Breaking News...

عراق کی معیشت ایران جنگ اور علاقائی کشیدگی کی زد میں

News Image
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور ممکنہ جنگی صورتحال کے باعث عراقی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے، جہاں تیل کی برآمدات متاثر ہونے اور درآمدی لاگت بڑھنے سے مالی بحران پیدا ہو رہا ہے۔ عراقی دینار کی قدر میں کمی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے عام شہریوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کے خطرات نے عراق کی معیشت کو انتہائی نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ حالیہ بحران کے نتیجے میں ملک کی معاشی ترقی کا پہیہ سست پڑ گیا ہے کیونکہ عراق کی معیشت بنیادی طور پر تیل کی برآمدات اور غیر ملکی اشیا کی درآمد پر مکمل طور پر انحصار کرتی ہے۔ جنگی صورتحال کے باعث تیل کی سپلائی لائنز اور برآمدی راستے شدید متاثر ہوئے ہیں، جس سے قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور حکومت کے مالیاتی ذخائر پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، درآمدی اخراجات میں ہوشربا اضافہ اور عراقی دینار کی قدر میں گراوٹ نے ملکی مارکیٹ میں بحران کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ درآمدی سامان مہنگا ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں اشیائے ضروریہ اور ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں، جس نے کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال زیادہ طویل چلی تو عراق کو شدید ترین معاشی جمود اور مالیاتی بدحالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عراقی حکومت اور متعلقہ مالیاتی ادارے اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم علاقائی سطح پر جاری کشیدگی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ عام شہریوں کے لیے روزمرہ کی زندگی گزارنا اور مہنگائی کے اس طوفان کا مقابلہ کرنا روز بروز مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، اور ملک میں بیروزگاری کے تناسب میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔