Politics
اسلام آباد لاک ڈاؤن: پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ کے پیش نظر سکیورٹی سخت
پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد کو مختلف رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے جبکہ حکومت نے اس احتجاج کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کشیدگی کا ماحول ہے کیونکہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دارالحکومت کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر کے مختلف مقامات پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں جنہیں ٹِٹرس نما مکینیکل انداز سے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔ سکیورٹی کے ان غیر معمولی اقدامات کے باعث شہر کے اہم راستوں پر ٹریفک کی روانی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب حکومتی وزراء نے پی ٹی آئی کی قیادت پر کڑی تنقید کی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات اور دیگر رہنماؤں نے خیبرپختونخوا کی حکومت اور پی ٹی آئی پر سیاسی دہشت گردی کا الزام عائد کیا ہے اور چیلنج کیا ہے کہ پارٹی میں اگر ہمت ہے تو وہ اپنا مارچ کر کے دکھائے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاست کو یرغمال بنانے اور اسلام آباد پر حملے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے تمام آئینی اور قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔ ادھر سیاسی بے یقینی اور سکیورٹی خدشات کے باعث عوامی زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے جبکہ شہریوں کو روزمرہ کے معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق فریقین کے درمیان لفظی جنگ بھی عروج پر ہے جہاں ایک طرف پی ٹی آئی اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج پر بضد ہے تو دوسری طرف حکومت کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس پر ملک بھر کے سیاسی تجزیہ کاروں کی گہری نظر ہے۔