Politics
اسحاق ڈار کی اسد مجید کی خدمات کی تعریف اور علاقائی امن پر گفتگو
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اسد مجید خان کی خدمات کو سراہا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے علاقائی اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اسلام آباد: پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے سفیر اسد مجید کی شاندار خدمات اور کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اسد مجید نے تنظیم کے اہداف کے حصول کے لیے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کام کیا ہے جس سے علاقائی تعاون کو فروغ ملا ہے۔ اس موقع پر سفارتیحلقوں میں اس اعتراف کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، ECO کے حالیہ اجلاس کے دوران اسحاق ڈار نے خطے بالخصوص مشرق وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی تنازعات کے دیرپا حل کے لیے تمام رکن ممالک کو مل کر مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور اقتصادی ترقی کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
اجلاس اور حالیہ رپورٹس کے تناظر میں دہشت گردی کے معاملے پر بھی بات چیت کی گئی، جہاں یہ مؤقف اپنایا گیا کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہونا خطے کی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ ذرائع اور شواہد کے مطابق دہشت گردوں کے مبینہ طور پر افغانستان میں تربیتی مراکز موجود ہیں جو پاکستان کے امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ افغان سرزمین سے جڑے دہشت گردی کے خطرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی پائیدار ترقی اور امن و امان کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔ حکومت پاکستان نے عالمی برادری پر واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے اس ناسور کے خاتمے کے لیے افغانستان کی عبوری حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی تاکہ خطے کے غوام ایک پرامن مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔