World
اسرائیلی حملے غزہ میں جاری، پانچ افراد جاں بحق
اسرائیلی فضائی حملوں میں دو بچوں سمیت کم از کم پانچ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حماس کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی افواج کی بمباری اور حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے نتیجے میں تازہ کارروائیوں میں بچوں سمیت کم از کم پانچ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے میں امن قائم کرنے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کے ایک نئے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی کمی نہیں آئی اور عام شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع اور طبی عملے کے مطابق، تازہ ترین فضائی حملوں میں غزہ شہر اور گردونواح کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں دو معصوم بچے بھی شامل ہیں جبکہ کئی دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ادویات کے ذخیرہ کرنے والے گودام بھی تباہ ہو گئے ہیں، جس سے پہلے سے ہی دباؤ کا شکار طبی نظام مزید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔
عالمی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے جس کا مقصد مبینہ طور پر حماس کو غیر مسلح کرنا اور تنازع کا سیاسی حل نکالنا ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک جنگ بندی کے لیے فوری اور عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، اس طرح کے منصوبے زمینی سطح پر خون ریزی کو نہیں روک سکتے۔
متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شدید مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ بنیادی ڈھنسہ پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے اور ایندھن کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ غزہ کے رہائشی اس صورتحال میں شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور عالمی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر بمباری کا سلسلہ روکا جائے اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔