World
امریکہ اور چین کا ٹیرف میں کمی اور AI ڈائیلاگ پر اتفاق
امریکہ اور چین نے تیس ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر باہمی ٹیرف میں کمی کرنے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں باقاعدہ بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں عالمی طاقتوں کے اس اہم فیصلے سے عالمی تجارت اور دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کم ہونے کی توقع ہے۔
واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی محاذ پر جاری کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے دونوں ممالک نے تیس ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر باہمی ٹیرف میں کٹوتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں بڑی معیشتوں نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے شعبے میں باقاعدہ بات چیت کا آغاز کرنے پر بھی اتفاق ظاہر کیا ہے۔ چینی دارالحکومت بیجنگ اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر شی جن پنگ اور امریکی قیادت کے درمیان ہونے والے رابطوں کے نتیجے میں یہ مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں کو بھی بڑی حد تک ریلیف ملا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین یہ عارضی تجارتی جنگ بندی اور ٹیرف میں کمی دراصل عالمی معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تجارتی مذاکرات کے حوالے سے مزید تفصیلی لائحہ عمل پیر کے روز سامنے آنے کی توقع ہے، جس کا اعلان امریکی تجارتی نمائندے اور دیگر حکام کی جانب سے کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا کی دو بڑی اقتصادی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ ٹیکنالوجی کے مستقبل کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک اس میدان میں سرفہرست ہیں۔ اس معاہدے سے نہ صرف دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کو طویل المدتی استحکام ملے گا بلکہ دنیا بھر میں سپلائی چین کے مسائل بھی حل ہونے میں مدد ملے گی۔ اس ٹریڈ ٹروث کے بعد عالمی سطح پر ایک مثبت پیغام گیا ہے کہ دونوں ممالک باہمی بات چیت کے ذریعے اپنے تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔