LIVE
Loading Breaking News...

نیتنیاہو کو حماس حملے کی پیشگی وارننگ کا انکشاف

News Image
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے رہنما نے اکتوبر 2007 کے حملے سے قبل اسرائیلی وزیراعظم کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا۔ تاہم مبینہ طور پر سعودی عرب کے ساتھ امن مذاکرات متاثر ہونے کے خدشے کے پیش نظر اقدامات نہیں کیے گئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو کو سات اکتوبر کے تاریخی حملے سے قبل متحدہ عرب امارات کے ایک سینیئر رہنما کی جانب سے ممکنہ خطرے سے خبردار کیا گیا تھا۔ معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور دیگر ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حماس کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملے کی پیشگی اطلاع موصول ہونے کے باوجود اسرائیلی قیادت نے اس پر فوری اور موثر ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔ یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں سکیورٹی انتظامات اور انٹیلی جنس کی ناکامیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو نے اس انتباہ کو مبینہ طور پر اپنے سکیورٹی چیفس تک بھی مکمل طور پر منتقل نہیں کیا تھا۔ تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس وقت اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی اور امن مذاکرات ایک اہم موڑ پر تھے۔ اسرائیلی قیادت اس بات سے خائف تھی کہ غزہ کی پٹی پر کسی بھی قسم کی قبل از وقت بڑی فوجی کارروائی یا فضائی حملے کی صورت میں ریاض کے ساتھ جاری سفارتی عمل اور امن کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کی وجہ سے خطرے کو نظر انداز کر دیا گیا۔ دوسری جانب، ان رپورٹس کے منظر عام پر آنے کے بعد اسرائیلی سیاست اور دفاعی حلقوں میں ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ سیاسی مخالفین اور متاثرہ خاندانوں کی تنظیموں نے حکومتی غفلت اور انٹیلی جنس کی مبینہ ناکامی پر کڑی تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر اس وارننگ کو سنجیدہ لیا جاتا اور سکیورٹی اداروں کو اعتماد میں لے کر بروقت اقدامات کیے جاتے، تو شاید سات اکتوبر کے سانحے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کو کافی حد تک روکا جا سکتا تھا۔ اس انکشاف نے اسرائیلی حکومت کی اندرونی سیاست اور فیصلوں کے عمل پر مزید سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔