LIVE
Loading Breaking News...

حوثیوں کی انٹیلی جنس جنگ میں مشکلات، روس اور ایران کا کردار

News Image
روسی اور ایرانی انٹیلی جنس کی مدد سے حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر جارحیت میں تیزی دکھائی تھی۔ اب مغربی اور اتحادی طاقتوں کی جانب سے اس انٹیلی جنس نیٹ ورک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بحیرہ احمر کے ساحل پر یمن کے حوثی باغیوں کی کارروائیوں اور جارحانہ عزائم کے پیچھے کارفرما انٹیلی جنس نیٹ ورک اب خود شدید دباؤ اور حملوں کی زد میں آ گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سے قبل حوثیوں کو بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے اور اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے روس اور ایران کی جانب سے اعلیٰ درجے کی انٹیلی جنس اور تکنیکی مدد فراہم کی جا رہی تھی، جس کی بدولت ان کی عسکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ تاہم، اب صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور وہ نظام جو حوثیوں کی اس مہم کو تقویت دے رہا تھا، عالمی طاقتوں اور اتحادی ممالک کی دفاعی حکمت عملی کا نشانہ بن چکا ہے۔ اس نئے موڑ نے خطے میں جاری کشیدگی کی نوعیت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، کیونکہ انٹیلی جنس ذرائع اور مواصلاتی نظام کی بندش یا خلل سے حوثیوں کی کارروائیوں کی درستگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر کی اس بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے عسکری اقدامات کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس کے اس انفراسٹرکچر کو کمزور کرنا ناگزیر تھا جو باغیوں کو مسلسل ہدایات اور معلومات فراہم کر رہا تھا۔ روسی اور ایرانی تعاون کے حامل اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں سے نہ صرف حوثیوں کی صلاحیتوں میں کمی آئے گی بلکہ بین الاقوامی تجارت کے لیے خطرات میں بھی کمی واقع ہونے کی توقع ہے۔ آنے والے دنوں میں اس انٹیلی جنس جنگ کے اثرات یمن کے زمینی اور سمندری محاذوں پر مزید واضح ہوں گے۔ اتحادی ممالک کی کوشش ہے کہ اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر مفلوج کیا جائے تاکہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔