World
غزہ میں معذور بچوں کے لیے وہیل چیئرز کی فراہمی کا مطالبہ
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں معذور اور اعضاء سے محروم ہونے والے بچوں کو نئی وہیل چیئرز کی اشد ضرورت ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں وہیل چیئرز کے داخلے پر پابندی عائد ہے جس کی وجہ سے متاثرہ بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جارحیت اور وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں ہزاروں معصوم شہری اپنی زندگی بھر کی معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان متاثرین میں بڑی تعداد ان بچوں کی ہے جو اس تباہ کن جنگ میں اپنے پاؤں اور ہاتھ گنوا بیٹھے ہیں یا پھر شدید جسمانی چوٹوں کی وجہ سے مستقل معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس نازک صورتحال میں جب طبی امداد پہلے ہی انتہائی محدود ہے، معذور اور اعضاء سے محروم بچوں کو نئی وہیل چیئرز اور دیگر ضروری طبی آلات فراہم کرنے میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ میں وہیل چیئرز اور بحالی کے لیے درکار دیگر اہم آلات کے داخلے پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس پابندی کی وجہ سے وہ بچے جو پہلے ہی جنگ کے صدمات اور جسمانی تکلیفوں سے گزر رہے ہیں، اب اپنے ہی گھروں یا خیموں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ وہ اپنی روزمرہ کی بنیادی ضروریات کے لیے بھی دوسروں کے محتاج ہو چکے ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا بھی ان کے لیے انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
اس دلخراش صورتحال کے پیش نظر، غزہ کی ایک معذور بچی نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں اور اسرائیلی حکام پر دباؤ ڈالیں کہ وہ غزہ میں وہیل چیئرز کے داخلے کی اجازت دیں۔ بچی کا کہنا ہے کہ معذوری کے ساتھ جینا پہلے ہی ایک بہت بڑا عذاب ہے، لیکن مناسب آلات اور وہیل چیئرز کی عدم موجودگی نے اس زندگی کو مزید تکلیف دہ بنا دیا ہے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ محصور علاقوں میں طبی اور امدادی سامان کی بندش بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ کے بچوں کو نہ صرف فوری طبی امداد کی ضرورت ہے بلکہ انہیں باعزت زندگی گزارنے کے لیے معاون آلات کی بھی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ان کی مصائب میں کچھ کمی لائی جا سکے اور وہ اپنی زندگی کی گاڑی کو کسی حد تک دوبارہ چلا سکیں۔