World
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل: ترکیہ کا ویٹو پاور ختم کرنے کا مطالبہ
ترکیہ نے عالمی امن اور انصاف کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ویٹو پاور کے خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق اس تبدیلی کے لیے سلامتی کونسل کے تمام پانچ مستقل ارکان کی رضامندی درکار ہے جو کہ موجودہ عالمی حالات میں انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔
عالمی سطح پر اصلاحات کے مطالبے ایک بار پھر زور پکڑتے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں ترکیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کے اختیار کو مکمل طور پر ختم کرنے کی آواز بلند کی ہے۔ ترکیہ کا مؤقف ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں چند ممالک کے پاس موجود ویٹو پاور عالمی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور اس کی وجہ سے اہم عالمی تنازعات کے حل میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ ترکیہ کا ماننا ہے کہ سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری، منصفانہ اور تمام ممالک کی نمائندہ بننا چاہیے تاکہ دنیا بھر کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔ دوسری جانب بین الاقوامی امور کے ماہرین اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ویٹو پاور کے خاتمے کا یہ مطالبہ جتنا جاندار ہے، عملی طور پر اس کا حصول اتنا ہی زیادہ پیچیدہ اور مشکل عمل ہے۔ قواعد و ضوابط کے مطابق، سلامتی کونسل سے ویٹو کے اختیار کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر میں بنیادی ترمیم کرنا ہوگی۔ اس طرح کی کسی بھی آئینی اور قانونی ترمیم کے لیے سلامتی کونسل کے تمام پانچوں مستقل ارکان یعنی امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کی متفقہ رضامندی اور منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ تاریخی اور سیاسی تنازعات کی وجہ سے ان پانچوں طاقتور ممالک کے درمیان اس نوعیت کے کسی بھی بڑے معاملے پر اتفاق رائے پانا فی الحال عملاً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ ماضی میں بھی سلامتی کونسل کی اصلاحات کے حوالے سے متعدد تجاویز پیش کی جا چکی ہیں جن میں ویٹو پاور کی حد بندی یا مستقل ارکان کی تعداد میں اضافے کی بات کی گئی تھی، لیکن کسی بھی تجویز کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ترکیہ کی طرف سے اٹھایا گیا یہ تازہ قدم عالمی سفارت کاری میں کس قسم کی نئی بحث کو جنم دیتا ہے اور آیا دنیا کی بڑی طاقتیں اس پر کوئی لچک دکھاتی ہیں یا نہیں۔