LIVE
Loading Breaking News...

یمن حکومت کا عام موبلائزیشن اور حوثی فوجیوں کے لیے معافی کا اعلان

News Image
یمنی حکومت نے باغی حوثی گروہ کے صفوں کو کمزور کرنے اور قومی اتحاد کو بحال کرنے کی غرض سے ایک جامع عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد اندرونی اختلافات کو مٹانا اور سرکاری افواج کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
یمن کی سرکاری حکومت نے ملک میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم اور اسٹریٹجک فیصلہ کرتے ہوئے عام موبلائزیشن کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی حوثی باغیوں کے ان تمام افراد کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے جو بغاوت کا راستہ چھوڑ کر واپس قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ حکومت کا یہ قدم حوثی باغیوں کی صفوں میں شدید پھوٹ ڈالنے اور انہیں اندرونی طور پر کمزور کرنے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یمنی حکام کا ماننا ہے کہ اس پیشکش سے بہت سے ایسے افراد جو مجبوری یا فریب کی وجہ سے باغیوں کے ساتھ شامل ہوئے تھے، انہیں ایک نیا موقع ملے گا کہ وہ ریاست کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کریں۔ سرکاری سطح پر جاری کردہ بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے تمام طبقات اور دھڑوں کو باہمی اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا۔ یہ جنرل موبلائزیشن اور معافی کا اعلان نہ صرف عسکری محاذ پر بلکہ سیاسی سطح پر بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے باغی قیادت پر نفسیاتی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، حکومت کی جانب سے اس طرح کے مصالحتی لیکن مضبوط اقدامات قومی اتحاد کی بحالی اور ریاست کی رٹ کو ملک بھر میں دوبارہ قائم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوں گے۔ دوسری جانب، اس اعلان کے بعد یمن کے سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں جبکہ عوام بھی اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس پیش رفت سے طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کی کوئی سبیل نکل آئے گی۔