Pakistan
ڈی آئی خان خودکش دھماکہ: چیک پوسٹ پر حملے میں 12 افراد جاں بحق
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر دھماکے کے نتیجے میں بارہ افراد جاں بحق اور تیس زخمی ہو گئے۔ اس المناک واقعے کے بعد ریسکیو ایمبولینس پر فائرنگ سے ایک ریسکیو اہلکار بھی جاں بحق ہو گیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے تحصیل درازندہ میں امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے کے نتیجے میں بارہ افراد جاں بحق اور تیس سے زائد زخمی ہو گئے۔ علاقائی پولیس افسر غلام مبشر میکن نے ابتدائی تخمینے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں کوئی قانون نافذ کرنے والا یا سیکیورٹی اہلکار جاں بحق نہیں ہوا، بلکہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک کسٹمز اہلکار اور عام شہری شامل ہیں جن میں نو مرد، دو خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔ یہ چیک پوسٹ ڈی آئی خان کوئٹہ روڈ پر واقع ہے اور اس دھماکے سے چیک پوسٹ کا ایک بڑا حصہ اور ملحقہ ایک گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس کے بعد بھاری فائرنگ کی آوازیں بھی گونجتی رہیں۔
ایک الگ واقعے میں، جب ریسکیو 1122 کی ایک ایمبولینس دھماکے کے مقام سے لاشیں منتقل کر رہی تھی تو اسے نامعلوم افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ریسکیو اہلکار شریف اللہ جاں بحق اور دو دیگر اہلکار انیس اور امتیاز شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس دوران موبائل فون سروس معطل ہونے کے باوجود ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں جاری رکھیں اور پچیس سے زائد زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا۔ علاقے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کر لیا گیا تاکہ دھماکے کی نوعیت کا مکمل جائزہ لیا جا سکے، جبکہ ڈی پی او ضیاء الدین احمد اور دیگر اعلیٰ حکام نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔
واقعے کے بعد ملک بھر کی سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف سے شدید مذمت کا اظہار کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور حملے کو شرپسند عناصر کی سازش قرار دیا۔ صدر آصف علی زرداری نے قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خوارج کی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا پہلے بھی مقابلہ کر چکا ہے اور اب بھی ان تمام عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے گا جو اس ملک کے امن کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔